BG 2.20 — سانکھیا یوگا
BG 2.20📚 Go to Chapter 2
जायतेम्रियतेवाकदाचिन्नायंभूत्वाभवितावाभूयः|अजोनित्यःशाश्वतोऽयंपुराणोहन्यतेहन्यमानेशरीरे||२-२०||
نَ جَایَتے مْرِیَتے وَا کَدَاچِنْ نَایَں بھُوتْوَا بھَوِتَا وَا نَ بھُویَہ | اَجو نِتْیَہ شَاشْوَتویَں پُرَانو نَ ہَنْیَتے ہَنْیَمَانے شَرِیرے ||۲-۲۰||
न: not | जायते: is born | म्रियते: dies | वा: or | कदाचिन्: at any time | नायं: not | भूत्वा: having been | भविता: will be | वा: or | न: not | भूयः: (any) more | अजो: unborn | नित्यः: eternal | शाश्वतोऽयं: changeless | पुराणो: ancient | न: not | हन्यते: is killed | हन्यमाने: being killed | शरीरे: in body
GitaCentral اردو
یہ روح نہ کبھی پیدا ہوتی ہے اور نہ مرتی ہے؛ اور نہ ہی ایک بار ہو کر پھر عدم ہو جاتی ہے۔ یہ روح غیر پیدا، دائمی، ابدی اور قدیم ہے؛ جسم کے مارے جانے پر بھی یہ قتل نہیں ہوتی۔
🙋 اردو Commentary
الفاظ کے معنی: ن - نہیں، جائےتے - پیدا ہوتا ہے، مریتے - مرتا ہے، وا - یا، کداچت - کسی بھی وقت، ایام - یہ روح، بھوتوا - ہو کر، بھویتا - ہوگا، بھویہ - دوبارہ، اجہ - غیر پیدائشی، نتیا - ابدی، شاشوتا - غیر متغیر، پرانا - قدیم، ہنیاتے - مارا جاتا ہے، ہنیامانے - مارے جاتے وقت، شریرے - جسم میں۔ تشریح: یہ روح پیدائش، وجود، نشوونما، تبدیلی، زوال اور موت جیسی چھ تبدیلیوں سے پاک ہے۔ چونکہ یہ ناقابل تقسیم ہے، اس لیے اس کا سائز کم نہیں ہوتا۔ یہ نہ بڑھتی ہے اور نہ گھٹتی ہے؛ یہ ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔ پیدائش اور موت صرف جسمانی جسم کے لیے ہیں۔ پیدائش اور موت اس لافانی، ہر جگہ موجود روح کو چھو نہیں سکتیں۔
English
Swami Gambirananda
Swami Adidevananda
Hindi
Swami Ramsukhdas
Sanskrit
Sri Ramanuja
Sri Madhavacharya
Sri Anandgiri
Sri Jayatirtha
Sri Abhinav Gupta
Sri Madhusudan Saraswati
Sri Sridhara Swami
Sri Dhanpati
Vedantadeshikacharya Venkatanatha
Sri Purushottamji
Sri Neelkanth
Sri Vallabhacharya
Detailed Commentary
**2.20۔ یہ آتما (مجسم روح) نہ کبھی پیدا ہوتی ہے اور نہ کبھی مرتی ہے، نہ ہی یہ وجود میں آکر پھر کبھی فنا ہوگی۔ یہ اَجن (غیرپیدائشی)، نِتّہ (ہمیشہ رہنے والی)، شاشوت (قدیم) اور پرانا ہے۔ جب جسم قتل کیا جاتا ہے تو یہ (آتما) قتل نہیں ہوتی۔** **تشریح:** جسم چھ تغیرات کا تابع ہے: پیدائش، وجود، تغیر، نشوونما، زوال اور فنا۔ یہ آتما ان چھوں تغیرات سے آزاد ہے—خداوند اس آیت میں یہی وضاحت فرما رہے ہیں۔ **'نہ جایتے مریتے وا کداچن'**—جس طرح جسم پیدا ہوتا ہے، یہ آتما کبھی پیدا نہیں ہوتی۔ یہ ہمیشہ سے ہے۔ اِس آتما کو اپنا اَمس (حصہ) بتاتے ہوئے خداوند نے اسے 'سناتن' (ازلی) کہا ہے: "یہ جیووں کی دنیا میں میرا سناتن اَمس ہے" (15.7)۔ یہ آتما کبھی مرتی بھی نہیں۔ صرف وہی چیز مرتی ہے جو پیدا ہوئی ہو، اور 'مرنا' کا لفظ صرف اسی جگہ بولا جاتا ہے جہاں جسم اور پران (حیاتی قوت) کی جدائی ہو۔ یہ جدائی جسم میں ہوتی ہے۔ لیکن آتما میں نہ ملنا ہے نہ جدا ہونا۔ یہ بالکل ویسی کی ویسی رہتی ہے۔ اس کا مرنا سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ تمام تغیرات میں پیدائش اور موت اہم ہیں۔ اس لیے خداوند نے ان کی دو بار نفی کی ہے: پہلے جو 'نہ جایتے' (پیدا نہیں ہوتی) کہا، بعد میں اسے 'اَج:' (غیرپیدائشی) کہا؛ اور پہلے جو 'نہ مریتے' (مرتی نہیں) کہا، بعد میں اسے 'نہ ہنیتے ہنیمانے شریرے' (جسم کے مارے جانے پر نہیں مارا جاتا) کہا۔ **'ایم بھوتوا بھویتا وا نہ بھویہ'**—یہ ناشکن، ازلی تَتّوَ (اصول) ہو کر پھر ہونے والا نہیں؛ یعنی یہ خود قائم اور غیرمتغیر ہے۔ مثال کے طور پر، جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا وجود اس کی پیدائش کے بعد آتا ہے۔ جب تک وہ رحم میں ٹھہرتا نہیں، کوئی اس کے وجود (اس کے 'ہونے') کی بات نہیں کرتا۔ مطلب یہ کہ بچے کا وجود اس کی پیدائش کے بعد ہوتا ہے کیونکہ اس متغیر وجود کا آغاز اور انجام ہے۔ لیکن اس ازلی تَتّوَ کا وجود خود قائم اور غیرمتغیر ہے کیونکہ اس غیرمتغیر وجود کا نہ آغاز ہے نہ انجام۔ **'اَج:'**—یہ آتما کبھی پیدا نہیں ہوتی۔ اس لیے اسے 'اَج:' کہتے ہیں—یعنی پیدائش سے پاک۔ **'نِتّہ:'**—یہ آتما ہمیشہ رہنے والی اور دائمی ہے؛ اس لیے یہ کبھی بوسیدگی (کھراب) میں نہیں آتی۔ بوسیدگی غیرمستقل چیزوں میں ہوتی ہے، جو دائمی نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر، آدھی عمر گزرنے کے بعد جسم میں بوسیدگی شروع ہو جاتی ہے، طاقت گھٹنے لگتی ہے، اور حواس کی قوت کم ہونے لگتی ہے۔ اس طرح جسم، حواس، من (ذہن) وغیرہ بوسیدگی میں آتے ہیں، لیکن آتما بوسیدہ نہیں ہوتی۔ یہ ازلی تَتّوَ ہمیشہ ایک ہی صورت، ایک ہی ماہیت کا رہتا ہے۔ اس میں حالت کا تغیر نہیں، یعنی یہ کبھی بدلتی نہیں۔ اس میں تغیر کی استعداد بھی نہیں۔ **'پران:'**—یہ ناشکن تَتّوَ قدیم (پرانا) ہے، یعنی جس کا کوئی آغاز نہیں۔ یہ اتنا قدیم ہے کہ کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ پیدا ہونے والی چیزوں میں بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو چیز پرانی ہو جاتی ہے، وہ اور نہیں بڑھتی؛ بلکہ فنا ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ ایک اَجن (غیرپیدائشی) تَتّوَ ہے؛ اس میں نشوونما کا تغیر کیسے ہو سکتا ہے؟ مطلب یہ کہ نشوونما کا تغیر صرف پیدا ہونے والی چیزوں میں ہوتا ہے، اس ازلی تَتّوَ میں نہیں۔ **'نہ ہنیتے ہنیمانے شریرے'**—جسم کے فنا ہو جانے پر بھی یہ ناشکن آتما فنا نہیں ہوتی۔ یہاں 'شریرے' (جسم) کا لفظ استعمال کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ جسم فانی ہے۔ اسی فانی جسم میں چھ تغیرات ہوتے ہیں، آتما میں نہیں۔ ان الفاظ میں خداوند نے جسم اور آتما کا ایسا واضح بیان دیا ہے—ایسی وضاحت گیتا میں اور کہیں نہیں ملتی۔ ارجن سخت غم میں تھا، جنگ میں اپنے عزیزوں کی موت کے خوف سے۔ اس غم کو دور کرنے کے لیے خداوند فرماتے ہیں کہ جسم کے مرنے پر بھی یہ آتما نہیں مرتی، یعنی اس کا وجود ختم نہیں ہوتا۔ اس لیے غم کرنا مناسب نہیں۔ **ربط:** انیسویں آیت میں خداوند نے فرمایا تھا کہ یہ آتما نہ مارتی ہے نہ ماری جاتی ہے۔ اس بیسویں آیت میں 'ماری جانے' کی نفی دی گئی ہے۔ اب 'مارنے' کے فعل کی نفی کے لیے اگلی آیت کہی جاتی ہے۔