BG 2.13 — سانکھیا یوگا
BG 2.13📚 Go to Chapter 2
देहिनोऽस्मिन्यथादेहेकौमारंयौवनंजरा|तथादेहान्तरप्राप्तिर्धीरस्तत्रमुह्यति||२-१३||
دیہِنوسْمِنْیَتھَا دیہے کَومَارَں یَووَنَں جَرَا | تَتھَا دیہَانْتَرَپْرَاپْتِرْدھِیرَسْتَتْرَ نَ مُہْیَتِ ||۲-۱۳||
देहिनोऽस्मिन्यथा: of the embodied (soul) | देहे: in body | कौमारं: childhood | यौवनं: youth | जरा: old age | तथा: so also | देहान्तरप्राप्तिर्धीरस्तत्र: the attaining of another body | न: not | मुह्यति: grieves
GitaCentral اردو
جیسے اس جسم میں روح بچپن، جوانی اور بڑھاپے سے گزرتی ہے، اسی طرح وہ دوسرے جسم کو بھی پاتی ہے؛ صابر انسان اس پر گمراہ نہیں ہوتا۔
🙋 اردو Commentary
الفاظ کے معنی: دہینہ - جسم رکھنے والی روح، اسمن - اس میں، یتھا - جیسے، دیہے - جسم میں، کومارم - بچپن، یوونم - جوانی، جرا - بڑھاپا، تتھا - ویسے ہی، دیہانتر پراپتی - دوسرا جسم حاصل کرنا، دھیر - سمجھدار انسان، تتر - اس معاملے میں، نہ - نہیں، موہیتی - غمگین ہونا۔ تشریح: جیسے اس جسم میں بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپا آتا ہے، ویسے ہی روح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتی ہے۔ روح بچپن میں نہیں مرتی اور نہ ہی جوانی میں نئی پیدا ہوتی ہے۔ روح ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔ اس لیے، اس سچائی کو جاننے والا عقلمند انسان موت پر کبھی غم نہیں کرتا۔
English
Swami Gambirananda
Swami Adidevananda
Hindi
Swami Ramsukhdas
Sanskrit
Sri Ramanuja
Sri Madhavacharya
Sri Anandgiri
Sri Jayatirtha
Sri Abhinav Gupta
Sri Madhusudan Saraswati
Sri Sridhara Swami
Sri Dhanpati
Vedantadeshikacharya Venkatanatha
Sri Purushottamji
Sri Neelkanth
Sri Vallabhacharya
Detailed Commentary
**2.13: جیسے اس جسم میں جیوَتما (مجسم روح) کو بچپن، جوانی اور بڑھاپا آتا ہے، ویسے ہی دوسرے جسم کا حصول (یعنی نئے جسم میں تولد) بھی ہوتا ہے۔ اس بارے میں دانا شخص گمراہ نہیں ہوتا۔** **تشریح:** وضاحت — ’جیسے اس جسم میں جیوَتما کو بچپن، جوانی اور بڑھاپا آتا ہے...‘ پہلے اس جسم میں جیوَتما کو بچپن آتا ہے، پھر جوانی، پھر بڑھاپا۔ مطلب یہ کہ جسم میں کوئی ایک حالت قائم نہیں رہتی؛ اس میں مسلسل تغیر ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ’اس جسم میں جیوَتما کا‘ کہہ کر یہ بات قائم کی گئی ہے کہ روح الگ ہے اور جسم الگ ہے۔ روح دیکھنے والا ہے اور جسم دیکھا جانے والا۔ لہٰذا جسم میں بچپن وغیرہ جیسی حالتوں کا جو تغیر ہوتا ہے، وہ روح میں نہیں ہوتا۔ ’ویسے ہی دوسرے جسم کا حصول‘ — جیسے جسم کی بچپن، جوانی جیسی حالتیں ہیں، ویسے ہی دوسرے جسم کا حصول ہے، یعنی دوسرا جسم حاصل ہوتا ہے۔ جیسے س्थول شریر (کٹھن جسم) بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھے میں بدلتا ہے، ان حالتوں کے بدلنے پر کوئی غم نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح جب روح ایک جسم سے دوسرے جسم میں جاتی ہے تو اس بارے میں بھی کوئی غم نہیں کرنا چاہیے۔ جیسے س्थول شریر رہتے ہوئے بچپن، جوانی وغیرہ آتی ہیں، اسی طرح سوکشم اور کرن شریر (لطیف اور سببی جسم) رہتے ہوئے دوسرے جسم کا حصول ہوتا ہے۔ یعنی جیسے بچپن اور جوانی س्थول شریر کی حالتیں ہیں، اسی طرح دوسرے جسم کا حصول (موت کے بعد دوسرا جسم اختیار کرنا) سوکشم اور کرن شریر کی ایک حالت ہے۔ بچپن وغیرہ جیسی حالتوں کا تغیر س्थول شریر رہتے ہوئے ہوتا ہے — یہ س्थول نقطہ نظر ہے۔ سوکشم نقطہ نظر سے تو س्थول شریر بھی مسلسل بدلتا رہتا ہے، بالکل حالتوں کی طرح۔ بچپن میں جو جسم تھا وہ جوانی میں موجود نہیں رہتا۔ درحقیقت ایک لمحہ بھی ایسا نہیں جس میں س्थول شریر نہ بدلے۔ اسی طرح سوکشم اور کرن شریر میں بھی مسلسل لمحہ بہ لمحہ تغیر ہوتا رہتا ہے، جو دوسرے جسم کے حصول کی صورت میں صاف ظاہر ہو جاتا ہے۔ اب غور یہ ہے کہ س्थول شریر کا تو ہمیں علم ہے، لیکن سوکشم اور کرن شریر کا علم نہیں ہے۔ لہٰذا جب سوکشم اور کرن شریر کا علم ہی نہیں ہے تو ان کے تغیر کا علم کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے س्थول شریر کا علم اس کی حالتوں پر غور کرنے سے حاصل ہوتا ہے، اسی طرح سوکشم اور کرن شریر کا علم بھی ان کی حالتوں پر غور کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ س्थول شریر ’جاگت‘ کی حالت، سوکشم شریر ’سوپن‘ (خواب) کی حالت، اور کرن شریر ’سشوپتی‘ (گہری نیند) کی حالت سمجھے جاتے ہیں۔ بچپن میں انسان خواب میں اپنے آپ کو بچہ دیکھتا ہے، جوانی میں جوان دیکھتا ہے، اور بڑھاپے میں بوڑھا دیکھتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ س्थول شریر کے ساتھ ساتھ سوکشم شریر بھی بدلتا ہے۔ اسی طرح سشوپتی کی حالت بچپن میں زیادہ، جوانی میں کم، اور بڑھاپے میں بہت ہی کم ہو جاتی ہے؛ اس طرح کرن شریر کے تغیر کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ ایک اور بات: بچپن اور جوانی میں سونے سے جسم اور حواس کو جو تازگی آتی ہے، وہ بڑھاپے میں سونے سے حاصل نہیں ہوتی، یعنی بڑھاپے میں بچپن اور جوانی جیسا آرام نہیں ملتا۔ اس طرح سے بھی کرن شریر کے تغیر کا ثبوت ہے۔ جو دوسرے دیوی، جانور، پرندے وغیرہ کا جسم حاصل کرتا ہے، وہ اس جسم میں (جسم سے تعلق کے باعث) ’میں یہ ہوں‘ کا تجربہ کرتا ہے — یہ سوکشم شریر کا تغیر ہے۔ اسی طرح کرن شریر میں پرکشتی (فطرت) موجود ہے، جو س्थول نقطہ نظر سے عادت کہلاتی ہے۔ وہ عادت دیوی کی الگ ہے اور جانور، پرندے وغیرہ کی الگ — یہ کرن شریر کا تغیر ہے۔ اگر روح (جیوَتما) تغیر پذیر ہوتی تو حالتوں کے بدلنے پر بھی ’میں وہی ہوں‘ کا علم نہ ہوتا۔ لیکن حالتوں کے بدلنے پر بھی یہ علم ہوتا ہے کہ ’میں وہی ہوں جو پہلے بچہ تھا، جو پہلے جوان تھا۔‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ روح یعنی آتما میں کوئی تغیر نہیں ہوا ہے۔ یہاں ایک شک پیدا ہو سکتا ہے کہ س्थول شریر کی حالتوں کے تغیر کا تو ہمیں علم ہے، لیکن دوسرا جسم حاصل ہونے پر پچھلے جسم کا علم کیوں نہیں ہوتا؟ پچھلے جسم کا علم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ موت اور پیدائش کے وقت بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ اس تکلیف کے باعث عقل میں پچھلے جنم کی یاد نہیں رہتی۔ جیسے فالج ہو جانے یا انتہائی بڑھاپے میں عقل پہلے کی طرح علم کو برقرار نہیں رکھ پاتی، اسی طرح موت اور پیدائش کے وقت ایک بڑے جھٹکے کے باعث پچھلے جنم کا علم باقی نہیں رہتا۔ البتہ جس کی موت میں ایسی تکلیف نہ ہو، یعنی جس کا دوسرے جسم کا حصول بے تکلف ہو، بالکل جسم کی دوسری حالت کے حصول کی طرح، اس کی عقل میں پچھلے جنم کی یاد باقی رہ سکتی ہے۔ اب غور کریں کہ دوسری حالت کے حصول میں جو قسم کا علم ہوتا ہے، وہ دوسرے جسم کے حصول میں نہیں ہوتا؛ البتہ اپنی ہستی کا ’میں ہوں‘ کا علم ہر ایک کے لیے باقی رہتا ہے۔ مثلاً، سشوپتی میں کسی چیز کا علم نہیں ہوتا، لیکن جاگنے پر انسان کہتا ہے کہ ’ایسی گہری نیند آئی کہ مجھے کچھ خبر نہ رہی‘ — تو ’میں بے خبر تھا‘ کا علم ضرور موجود ہے۔ جو میں سونے سے پہلے تھا وہی جاگنے کے بعد ہوں، تو سشوپتی میں بھی میں وہی تھا — اس طرح اپنی ہستی کا علم مسلسل، غیر منقطع شکل میں باقی رہتا ہے۔ کسی کو بھی اپنی ہستی کے عدم کا علم کبھی نہیں ہوتا۔ جیوَتما کی ہستی غیر منقطع شکل میں باقی رہتی ہے؛ تب ہی تو موکش (نجات) ممکن ہے، اور وہ موکش کی حالت میں بھی باقی رہتی ہے۔ یقیناً جیون مکتی (زندہ رہتے ہوئے نجات) کی حالت میں اگرچہ دوسرے اجسام کا علم نہ ہو، لیکن یہ تجربہ ضرور ہوتا ہے کہ ’میں تینوں اجسام سے الگ ہوں۔‘ ’دانا شخص اس میں گمراہ نہیں ہوتا‘ — دانا صرف وہی ہے جس نے حقیقی اور غیر حقیقی کی پہچان کر لی ہو۔ ایسا دانا شخص اس موضوع کے بارے میں کبھی گمراہ نہیں ہوتا؛ اسے کبھی شک نہیں ہوتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا دانا شخص دوسرا جسم حاصل کرتا ہے۔ اونچے نیچے یونیوں (جنسوں) میں تولد گنوں (صفات) کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ہوتا ہے، اور جب گنوں کے ساتھ تعلق منقطع ہو جاتا ہے تو دانا شخص کا دوسرا جسم حاصل کرنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ یہاں ’اس میں‘ کا مطلب ’دوسرے جسم کے حصول کے موضوع میں‘ نہیں، بلکہ ’جسم اور روح کے موضوع میں‘ ہے۔ مطلب یہ: جسم کیا ہے؟ روح کیا ہے؟ تغیر پذیر کیا ہے؟ غیر تغیر پذیر کیا ہے؟ نائے (عارضی) کیا ہے؟ شاشوت (مستقل) کیا ہے؟ غیر حقیقی کیا ہے؟ حقیقی کیا ہے؟ وکری (تبدیلی کے تابع) کیا ہے؟ اس موضوع کے بارے میں وہ گمراہ نہیں ہوتا۔ اس موضوع کے بارے میں کہ جسم اور روح بالکل الگ ہیں، وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتا۔ اسے اپنی غیر وابستہ فطرت کا غیر منقطع علم حاصل ہوتا ہے۔ **تعلق:** یہ بات جسم جیسے نائے پدارتھوں (عارضی اشیا) سے وابستگی کے باعث پیدا ہونے والے غم کو دور کرنے کے لیے کہی گئی ہے۔