BG 1.29 — ارجن وِشاد یوگ
BG 1.29📚 Go to Chapter 1
सीदन्तिममगात्राणिमुखंपरिशुष्यति|वेपथुश्चशरीरेमेरोमहर्षश्चजायते||१-२९||
سِیدَنْتِ مَمَ گَاتْرَانِ مُکھَں چَ پَرِشُشْیَتِ | ویپَتھُشْچَ شَرِیرے مے رومَہَرْشَشْچَ جَایَتے ||۱-۲۹||
सीदन्ति: fail | मम: my | गात्राणि: limbs | मुखं: mouth | च: and | परिशुष्यति: is parching | वेपथुश्च: shivering | शरीरे: in body | मे: my | रोमहर्षश्च: horripilation | जायते: arises
GitaCentral اردو
میرے اعضا سست پڑ رہے ہیں، میرا منہ سوکھ رہا ہے، میرے جسم میں کپکپی ہو رہی ہے اور رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں۔
🙋 اردو Commentary
شلوک 1.29: ارجن نے کہا، 'اے کرشن! میرے اعضاء ناکام ہو رہے ہیں، میرا منہ خشک ہو رہا ہے، میرا جسم کانپ رہا ہے اور میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں۔' الفاظ کے معنی: سِیدنتی - ناکام ہونا؛ مم - میرے؛ گاترانی - اعضاء؛ مکھم - منہ؛ چ - اور؛ پریشوشیتی - خشک ہونا؛ ویپتھُہ - کپکپی؛ چ - اور؛ شریرے - جسم میں؛ مے - میرے؛ روم ہرشہ - رونگٹے کھڑے ہونا؛ چ - اور؛ جائےتے - پیدا ہو رہا ہے۔
English
Swami Gambirananda
Swami Adidevananda
Hindi
Swami Ramsukhdas
Sanskrit
Sri Ramanuja
Sri Madhavacharya
Sri Anandgiri
Sri Jayatirtha
Sri Abhinav Gupta
Sri Madhusudan Saraswati
Sri Sridhara Swami
Sri Dhanpati
Vedantadeshikacharya Venkatanatha
Sri Purushottamji
Sri Neelkanth
Sri Vallabhacharya
Detailed Commentary
"اے کرشن! اپنے ان رشتہ داروں کو جنگ کے لیے بے تاب اور صف آرا دیکھ کر۔۔۔" – 'کرشن' نام ارجن کو بہت پیارا تھا۔ گیتا میں یہ خطاب نو مرتبہ آیا ہے۔ سرکار شری کرشن کے لیے کوئی دوسرا خطاب اتنی بار نہیں آیا۔ اسی طرح 'پارتھ' نام سرکار کو ارجن کے لیے بہت محبوب تھا۔ اس لیے سرکار اور ارجن نے ایک دوسرے سے گفتگو میں انہی ناموں کا استعمال کیا اور یہ بات لوگوں میں بھی مشہور تھی۔ اسی مناسبت سے سنجے نے گیتا کے اختتام پر 'کرشن' اور 'پارتھ' کے نام لے کر کہا: "جہاں یوگیشور کرشن ہیں اور جہاں دھنش دھار پارتھ ہیں۔۔۔" (۱۸۔۷۸)۔ اس سے پہلے دھرت راشٹر نے کہا تھا "جنگ کی خواہش سے اکٹھے ہوئے" اور یہاں ارجن بھی کہہ رہے ہیں "جنگ کے لیے بے تاب، صف آرا"؛ مگر دونوں کے نقطہ نظر میں بڑا فرق ہے۔ دھرت راشٹر کے نزدیک دوریودھن وغیرہ *میرے* بیٹے ہیں اور یودھیشٹر وغیرہ پانڈو کے بیٹے ہیں – ایسا امتیاز ہے؛ اس لیے دھرت راشٹر نے وہاں 'میرے بیٹے' اور 'پانڈو کے بیٹے' الفاظ استعمال کیے۔ مگر ارجن کے نزدیک ایسا کوئی امتیاز نہیں ہے؛ اس لیے ارجن یہاں 'رشتہ دار' کہہ رہے ہیں جس میں دونوں طرف کے لوگ شامل ہیں۔ اشارہ یہ ہے کہ دھرت راشٹر کو اپنے بیٹوں کے جنگ میں مرنے کے خوف سے ڈر اور دکھ ہے؛ مگر ارجن کو دونوں طرف کے رشتہ داروں کے مرنے کے خوف سے غم ہے – کہ کسی طرف سے بھی کوئی مرے، وہ ہمارے رشتہ دار ہی تو ہیں۔ اب تک 'دیکھ کر' کا لفظ تین بار آیا ہے: "پانڈوؤں کی فوج کو دیکھ کر۔۔۔" (۱۔۲)، "دھرت راشٹر کے بیٹوں کو صف آرا دیکھ کر۔۔۔" (۱۔۲۰)، اور یہاں "اپنے ان رشتہ داروں کو دیکھ کر۔۔۔" (۱۔۲۸)۔ ان تینوں کا مطلب یہ ہے کہ دوریودھن کا دیکھنا ایک ہی قسم کا رہا یعنی دوریودھن کا جذبہ صرف جنگ کا تھا؛ مگر ارجن کا دیکھنا دو قسم کا ہو گیا۔ پہلے دھرت راشٹر کے بیٹوں کو دیکھ کر ارجن پُر جوش ہو کر جنگ کے لیے کھڑے ہوئے، اپنا دھنش اٹھایا؛ اور اب رشتہ داروں کو دیکھ کر بزدلی سے گھِر رہے ہیں، جنگ سے ہٹ رہے ہیں، اور دھنش ہاتھ سے گر رہا ہے۔ "میرے اعضا ڈھیلے پڑ رہے ہیں۔۔۔ اور میرا من گھوم رہا ہے گویا" – ارجن کے من میں جنگ کے آنے والے نتائج کے بارے میں فکر اور غم پیدا ہو رہا ہے۔ اس فکر اور غم کا اثر ارجن کے سارے جسم پر پڑ رہا ہے۔ وہی اثر ارجن صاف الفاظ میں بیان کر رہے ہیں: میرے جسم کا ہر عضو – ہاتھ، پاؤں، چہرہ وغیرہ – کمزور ہو رہا ہے! منہ سوکھ رہا ہے، بولنا بھی مشکل ہو رہا ہے! سارا جسم کانپ رہا ہے! جسم کے تمام بال کھڑے ہو رہے ہیں یعنی سارے جسم میں رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں! وہ گاندیو دھنش جس کی چٹخ سے دشمن ڈرتے تھے، وہی گاندیو دھنش آج میرے ہاتھ سے گر رہا ہے۔ جلد میں، سارے جسم میں جلن سی ہو رہی ہے۔ میرا من بھٹک رہا ہے یعنی میں یہ بھی نہیں سمجھ پا رہا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے! یہاں، اس جنگ کے میدان میں، میں رتھ پر کھڑا بھی نہیں رہ سکتا! ایسا لگتا ہے میں بے ہوش ہو کر گر پڑوں گا! ایسی تباہ کن جنگ میں یہاں کھڑے رہنا بھی گناہ لگ رہا ہے۔ **تعلق:** پچھلے شلوک میں اپنے جسم پر غم کے آٹھ آثار بیان کرنے کے بعد ارجن اب آنے والے نتائج کی علامت والے شگون کے نقطہ نظر سے جنگ کرنے کی نا مناسبیت بیان کر رہے ہیں۔