BG 1.20 — ارجن وِشاد یوگ
BG 1.20📚 Go to Chapter 1
अथव्यवस्थितान्दृष्ट्वाधार्तराष्ट्रान्कपिध्वजः|प्रवृत्तेशस्त्रसम्पातेधनुरुद्यम्यपाण्डवः|हृषीकेशंतदावाक्यमिदमाहमहीपते||१-२०||
اَتھَ وْیَوَسْتھِتَانْدْرِشْٹْوَا دھَارْتَرَاشْٹْرَانْ کَپِدھْوَجَہ | پْرَوْرِتّے شَسْتْرَسَمْپَاتے دھَنُرُدْیَمْیَ پَانْڈَوَہ | ہْرِشِیکیشَں تَدَا وَاکْیَمِدَمَاہَ مَہِیپَتے ||۱-۲۰||
अथ: now | व्यवस्थितान्दृष्ट्वा: standing arrayed | धार्तराष्ट्रान्: Dhritarashtra's party | कपिध्वजः: monkey-ensigned (Arjuna) | प्रवृत्ते: about to begin | शस्त्रसम्पाते: discharge of weapons | धनुरुद्यम्य: having taken up the bow | पाण्डवः: the son of Pandu (Arjuna) | हृषीकेशं: to Hrishikesha (Krishna) | तदा: then | वाक्यमिदमाह: word | महीपते: O Lord of the earth
GitaCentral اردو
پھر، دھرت راشٹر کے بیٹوں کو جنگ کے لیے قطار میں کھڑے دیکھ کر، اور ہتھیاروں کے استعمال کے آغاز ہونے والے وقت میں، کپی دھواج پانڈو ارجن نے اپنا دھنوش اٹھایا اور ہرشیکیش شری کرشن سے یہ الفاظ کہے، اے زمین کے مالک!
🙋 اردو Commentary
شلوک 1.20: اے راجن! جب جنگ شروع ہونے والی تھی، تب کپی دھوج ارجن نے دھرت راشٹر کے بیٹوں کو صف آرا کھڑے دیکھ کر اپنا دھنُش اٹھایا اور بھگوان کرشن سے یہ الفاظ کہے۔ الفاظ کے معنی: اتھ - اب، ویوستھتان - قطار میں کھڑے، درشٹوا - دیکھ کر، دھارتراشٹران - دھرت راشٹر کے فریق کے لوگ، کپی دھوج - جس کے جھنڈے پر بندر کا نشان ہے، پروِرتّے - شروع ہونے والے، شستر سمپاتے - ہتھیاروں کی بارش، دھنو - دھنُش، ادیامیہ - اٹھا کر، پانڈو - پانڈو کا بیٹا، ہریشیکیشم - کرشن کو، تدا - تب، واکیام - بچن، ادم - یہ، آہ - کہا، مہِی پتے - اے زمین کے راجن۔
English
Swami Gambirananda
Swami Adidevananda
Hindi
Swami Ramsukhdas
Sanskrit
Sri Ramanuja
Sri Madhavacharya
Sri Anandgiri
Sri Jayatirtha
Sri Abhinav Gupta
Sri Madhusudan Saraswati
Sri Sridhara Swami
Sri Dhanpati
Vedantadeshikacharya Venkatanatha
Sri Purushottamji
Sri Neelkanth
Sri Vallabhacharya
Detailed Commentary
اے بادشاہ دھرت راشٹر! جس وقت ہتھیار اٹھائے جانے والے تھے، اُس وقت ناحق بادشاہت پر قبضہ کرنے والے ظالم حکمرانوں اور اُن کے اتحادیوں کو اپنے سامنے صف آرا دیکھ کر پانڈو کے بیٹے ارجن، جس کے جھنڈے پر ہنومان جی کا نشان تھا، نے اپنا گانڈیو دھنش اٹھایا اور سب کچھ جاننے والے پروردگار، اندرونی حاکم شری کرشن سے یہ الفاظ کہے۔ تشریح: ’اتھ‘ (اب) کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سنجے اب شری کرشن اور ارجن کے درمیان ہونے والے اس مکالمے کا آغاز کر رہے ہیں جو گیتا ہے۔ یہ مکالمہ اٹھارہویں باب کی چوہترویں آیت میں ’اِتی‘ کے لفظ پر ختم ہوتا ہے۔ اسی طرح گیتا کی تعلیم کا آغاز اس کے دوسرے باب کی گیارہویں آیت سے ہوتا ہے اور اٹھارہویں باب کی چھیاسٹھویں آیت پر ختم ہوتی ہے۔ ’جب ہتھیار ٹکرانے والے تھے‘— اگرچہ پِتامہ بھیشم نے جنگ کے آغاز کا اعلان کرنے کے لیے شنگھ نہیں بجایا تھا، بلکہ محض دریاودھن کو خوش کرنے کے لیے بجایا تھا، پھر بھی کورو اور پانڈو کی فوجوں نے اسے جنگ کا اعلان سمجھا اور ہتھیار اٹھا کر تیار کھڑی ہو گئیں۔ فوجوں کو اس طرح مسلح دیکھ کر ارجن نے بھی جوشِ شجاعت سے اپنا گانڈیو دھنش اٹھا لیا۔ ’دھرت راشٹر کے بیٹوں کو صف آرا دیکھ کر‘— ان الفاظ کے ذریعے سنجے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب آپ کے بیٹے دریاودھن نے پانڈو فوج دیکھی تو وہ دوڑتا ہوا اپنے گرو درون اچاریہ کے پاس پہنچا۔ لیکن جب ارجن نے کورو فوج دیکھی تو اس کا ہاتھ فوراً اپنے گانڈیو دھنش پر پہنچ گیا—’کمان اٹھاتے ہوئے‘۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دریاودھن کے اندر خوف ہے، جبکہ ارجن کے اندر بے خوفی، جوش اور بہادری ہے۔ ’وہ جس کا جھنڈا بندر کا تھا‘— ارجن کے لیے ’کپیدھواج‘ کا خطاب استعمال کر کے سنجے دھرت راشٹر کو ہنومان جی کی یاد دلاتے ہیں، جو ارجن کے رتھ کے جھنڈے پر جلوہ افروز ہیں۔ جب پانڈو جنگل میں رہ رہے تھے، ایک دن اچانک ہوا نے ایک دیوی ہزار پتی کنول کو اڑا کر دروپدی کے سامنے گرا دیا۔ اسے دیکھ کر دروپدی بہت خوش ہوئیں اور بھیم سین سے کہا، ’اے مہابھیرو! براہِ کرم میرے لیے ایسے ہی بہت سے کنول لے آئیں۔‘ دروپدی کی خواہش پوری کرنے کے لیے بھیم سین وہاں سے چل پڑے۔ جب وہ کیلا کے ایک باغ میں پہنچے تو وہاں ہنومان جی سے ملاقات ہوئی۔ دونوں کے درمیان بہت سی باتیں ہوئیں۔ آخر میں جب ہنومان جی نے بھیم سین سے وردان مانگنے کو کہا تو بھیم سین نے کہا، ’آپ کی کرم فرمائی مجھ پر ہمیشہ قائم رہے۔‘ اس پر ہنومان جی نے کہا، ’اے پوت! اس وقت جب تم، تیروں اور نیزوں کے وار سے مضطرب دشمن کی صفوں میں داخل ہو کر شیر کی طرح دہاڑو گے، میں اپنی گرج دار آواز سے تمہاری دہاڑ کو اور بڑھا دوں گا۔ مزید برآں، ارجن کے رتھ کے جھنڈے پر بیٹھ کر میں ایسی ہولناک دہاڑ مروں گا کہ دشمنوں کی جان نکل جائے گی، جس سے تم سب اپنے دشمنوں کو آسانی سے قتل کر سکو گے۔‘ اس طرح جس کے رتھ کے جھنڈے پر ہنومان جی جلوہ افروز ہوں، اس کی فتح یقینی ہے۔ ’پانڈو کا بیٹا‘— دھرت راشٹر نے اپنے سوال میں ’پانڈو‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اس لیے دھرت راشٹر کو بار بار پانڈوؤں کی یاد دِلانے کے لیے سنجے (آیت 1.14 اور یہاں) ’پانڈو‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ’اے بادشاہ، پھر اس نے ہرشیکیش سے یہ الفاظ کہے‘— پانڈو فوج دیکھ کر دریاودھن اپنے گرو درون اچاریہ کے پاس جاتا ہے اور چالاکی سے بھری باتیں کرتا ہے۔ لیکن ارجن، کورو فوج دیکھ کر (اگلی باتیں) بہادری، جوش اور اپنے فرض کے احساس سے شری کرشن سے کہتا ہے، جو کائنات کے گرو، اندرونی حاکم اور ذہن و عقل کے رہنما ہیں۔