BG 2.38 — سانکھیا یوگا
BG 2.38📚 Go to Chapter 2
सुखदुःखेसमेकृत्वालाभालाभौजयाजयौ|ततोयुद्धाययुज्यस्वनैवंपापमवाप्स्यसि||२-३८||
سُکھَدُہکھے سَمے کْرِتْوَا لَابھَالَابھَو جَیَاجَیَو | تَتو یُدھَّایَ یُجْیَسْوَ نَیوَں پَاپَمَوَاپْسْیَسِ ||۲-۳۸||
सुखदुःखे: pleasure and pain | समे: same | कृत्वा: having made | लाभालाभौ: gain and loss | जयाजयौ: victory and defeat | ततो: then | युद्धाय: for battle | युज्यस्व: engage thou | नैवं: not | पापमवाप्स्यसि: sin
GitaCentral اردو
سکھ دکھ، نفعہ نقصان اور جیت ہار کو برابر سمجھ کر، پھر جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ؛ اس طرح تمہیں گناہ نہیں لگے گا۔
🙋 اردو Commentary
الفاظ کے معنی: سکھ دکھے - سکھ اور دکھ، سمے - برابر، کرتوا - مان کر، لابھالابھو - فائدہ اور نقصان، جیاجیو - جیت اور ہار، تتہ - پھر، یودھائے - جنگ کے لیے، یوجیاسوا - تیار ہو جاؤ، نہ - نہیں، ایوم - اس طرح، پاپم - گناہ، اواپسیسی - حاصل کرو گے۔ سوامی شیوانند کی تفسیر: یہ ہم آہنگی کا یوگ ہے یا عمل میں توازن برقرار رکھنے کا اصول ہے۔ اگر کوئی اس ذہنی کیفیت یا متوازن ذہن کے ساتھ کوئی کام کرتا ہے، تو وہ اس کے اعمال کا پھل نہیں بھوگے گا۔ ایسا عمل دل کی پاکیزگی اور جنم مرن کے چکر سے آزادی کی طرف لے جاتا ہے۔ مسلسل جدوجہد اور بیدار کوششوں کے ذریعے ذہن کی ایسی متوازن حالت پیدا کرنی پڑتی ہے۔
English
Swami Gambirananda
Swami Adidevananda
Hindi
Swami Ramsukhdas
Sanskrit
Sri Ramanuja
Sri Madhavacharya
Sri Anandgiri
Sri Jayatirtha
Sri Abhinav Gupta
Sri Madhusudan Saraswati
Sri Sridhara Swami
Sri Dhanpati
Vedantadeshikacharya Venkatanatha
Sri Purushottamji
Sri Neelkanth
Sri Vallabhacharya
Detailed Commentary
**۲۔۳۸۔** سُکھ اور دُکھ، نفع اور نقصان، جیت اور ہار کو برابر کر کے پھر جنگ کرو۔ اِس طرح لڑنے سے تم گناہ کے مُرتکِب نہ ہو گے۔ **تشریح:** ارجن کو یہ خوف تھا کہ جنگ میں رشتہ داروں کو مارنے سے ہم پر گناہ ہو گا۔ مگر یہاں پروردگار فرما رہے ہیں کہ گناہ کا سبب جنگ نہیں بلکہ اپنی خواہش ہے۔ اِس لیے خواہش کو چھوڑ کر تم جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ ’سُکھ اور دُکھ کو برابر کر کے پھر جنگ کرو‘ — جنگ میں سب سے پہلے جیت اور ہار ہوتی ہے؛ جیت اور ہار کا نتیجہ نفع اور نقصان ہے؛ اور نفع اور نقصان کا نتیجہ سُکھ اور دُکھ ہے۔ تمہارا مقصد جیت-ہار اور نفع-نقصان میں خوش یا غمگین ہونا نہیں ہے۔ تمہارا مقصد ہے کہ اِن تینوں میں بھی برابر رہ کر اپنا فرض ادا کرو۔ جنگ میں جیت-ہار، نفع-نقصان اور سُکھ-دُکھ یقیناً ہوں گے۔ اِس لیے تمہیں پہلے یہ عزم کر لینا چاہیے کہ ہمیں تو صرف اپنا فرض ادا کرنا ہے، اور جیت-ہار وغیرہ سے کوئی سروکار نہیں۔ پھر لڑنے سے گناہ نہیں لگے گا، یعنی دنیا کا بندھن نہیں ہو گا۔ اپنے فرض کے مطابق عمل کو دونوں طرح کے رویے سے کرنا ضروری ہے — خواہش کے ساتھ اور بے خواہش۔ خواہش رکھنے والے کو فرض کے مطابق عمل کرنے میں ہرگز سُستی یا غفلت نہیں برتنی چاہیے؛ بلکہ اپنے فرض کو پوری محنت سے ادا کرنا چاہیے۔ اور بے خواہش رویہ رکھنے والے، جو اپنی بھلائی چاہتا ہے، کو بھی اپنے فرض کو پوری محنت سے ادا کرنا چاہیے۔ سُکھ جب آتا ہے تو اچھا لگتا ہے اور جب جاتا ہے تو بُرا لگتا ہے؛ دُکھ جب آتا ہے تو بُرا لگتا ہے اور جب جاتا ہے تو اچھا لگتا ہے۔ تو اچھا کون سا ہے اور بُرا کون سا ہے؟ یعنی دونوں برابر، ایک جیسے ہیں۔ اِس طرح سُکھ اور دُکھ میں عقل کی یکسوئی قائم رکھتے ہوئے تمہیں اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔ تمہارے کسی بھی عمل میں سُکھ کے لالچ سے رغبت نہ ہو، اور نہ ہی دُکھ کے ڈر سے کوئی گریز ہو۔ تمہاری اعمال میں رغبت اور گریز صرف شاستروں کے مطابق ہی ہونی چاہیے (گیتا ۱۶۔۲۴)۔ ’تم گناہ کے مُرتکِب نہ ہو گے‘ — یہاں ’گناہ‘ لفظ سے مراد دونوں ہیں — گناہ اور پُنا، جن کا پھل جنت اور دوزخ کی صورت میں بندھن ہے، جس کی وجہ سے انسان اپنی بھلائی سے محروم رہتا ہے اور بار بار پیدا ہوتا اور مرتا ہے۔ پروردگار فرما رہے ہیں: اے ارجن! جنگ کی صورت میں فرض کے مطابق عمل کو یکسوئی میں قائم ہو کر کرنے سے نہ تو گناہ تمہیں باندھے گا اور نہ ہی پُنا۔ **سیاق و سباق کے خاص نکات:** اِن اکتیسویں سے اڑتیسویں تک کے آٹھ اشلوک میں پروردگار نے کئی گہرے مضامین بیان فرمائے ہیں؛ جیسے — (۱) اگر کسی کو کوئی بیان دینا ہو اور کسی موضوع کی وضاحت کرنی ہو تو پروردگار یہاں اِن آٹھ اشلوک میں اُس کا فن سکھاتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی کو حکم اور ممانعت — جیسے فرض کے مطابق عمل کرنا اور غیر فرض نہ کرنا — کا بیان دینا ہو تو پہلے حکم، بیچ میں ممانعت، اور پھر آخر میں حکم بیان کر کے بیان ختم کرنا چاہیے۔ یہاں بھی پروردگار نے پہلے اکتیسویں اور بتیسویں اشلوک میں فرض کے مطابق عمل کرنے کے فائدے بیان فرمائے؛ پھر بیچ میں تینتیسویں سے چھتیسویں تک کے چار اشلوک میں فرض کے مطابق عمل نہ کرنے کے نقصان بیان فرمائے؛ اور آخر میں سینتیسویں اور اڑتیسویں اشلوک میں فرض کے مطابق عمل کرنے کے فائدے بیان فرما کر فرض کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا۔ (۲) پروردگار نے اِن آٹھ اشلوک میں ارجن کے پہلے ادھیائے میں اپنے نقطہ نظر سے دیے گئے دلائل کا حل فرمایا ہے؛ مثلاً: ارجن کہتا ہے — میں جنگ میں کوئی بھلائی نہیں دیکھتا (۱۔۳۱)، تو پروردگار فرماتے ہیں — کھتری کے لیے دھرم یُدھ سے بڑھ کر کوئی دوسرا بھلائی کا ذریعہ نہیں ہے (۲۔۳۱)۔ ارجن کہتا ہے — ہم جنگ کر کے کیسے خوش ہوں گے؟ (۱۔۳۷) تو پروردگار فرماتے ہیں — جو کھتری ایسے جنگ کو پاتے ہیں وہ یقیناً خوش ہوتے ہیں (۲۔۳۲)۔ ارجن کہتا ہے — جنگ کا نتیجہ دوزخ کی پراپتی ہو گی (۱۔۴۴) تو پروردگار فرماتے ہیں — جنگ کرنے سے جنت حاصل ہو گی (۲۔۳۲، ۳۷)۔ ارجن کہتا ہے — جنگ کرنے سے گناہ لگے گا (۱۔۳۶) تو پروردگار فرماتے ہیں — جنگ نہ کرنے سے گناہ لگے گا (۲۔۳۳)۔ ارجن کہتا ہے — جنگ کرنے سے دھرم کا نتیجے کے طور پر ناش ہو جائے گا (۱۔۴۰) تو پروردگار فرماتے ہیں — جنگ نہ کرنے سے دھرم کا ناش ہو جائے گا (۲۔۳۳)۔ (۳) ارجن اِس بات پر اَڑا ہوا تھا کہ جنگ کے بھیانک عمل کو چھوڑ کر بھیک سے گُزارا کرنا میرے لیے بہتر ہے (۲۔۵)، تو پروردگار نے اُسے جنگ کرنے کا حکم دیا (۲۔۳۸)؛ اور اُدھَو کو پروردگار کے ساتھ رہنے کی خواہش تھی، تو پروردگار نے اُسے اُتّرا کھنڈ جا کر تپ کرنے کا حکم دیا (شریمد بھاگوت ۱۱۔۲۹۔۴۱)۔ مقصد یہ ہے کہ اپنے من کی اَڑ کو چھوڑے بغیر بھلائی نہیں ہے۔ وہ اَڑ، خواہ جیسی بھی ہو، موکش میں رکاوٹ بنتی ہے۔ (۴) پروردگار نے اِس ادھیائے کے دوسرے اور تیسرے اشلوک میں جو باتیں مختصراً کہی تھیں، اُنہیں یہاں تفصیل سے بیان فرمایا ہے؛ مثلاً: وہاں ’اَریہوں کے نا یوگ‘ کہا، یہاں ’کھتری کے لیے کوئی بڑی بھلائی نہیں...‘ کہا۔ وہاں ’سورگ تک نہ پہنچانے والا‘ کہا، یہاں ’سورگ کا کھلا ہوا دروازہ‘ کہا۔ وہاں ’بے اِکرتی لانے والا‘ کہا، یہاں ’لوگ تمہاری ہمیشہ کی بے اِکرتی بیان کریں گے‘ کہا۔ وہاں جنگ کرنے کا حکم دیا — ’اِس لیے اے دشمنوں کو دُکھ دینے والے! کھڑے ہو جاؤ‘ — وہی حکم یہاں دیا — ’پھر جنگ کرو‘۔ **تعلق:** پچھلے اشلوک میں پروردگار نے یکسوئی کی بات کہی تھی؛ اگلے دو اشلوک میں اُسے سُننے کا حکم دے کر اُس کی مہتا بیان فرماتے ہیں۔